#لوکل_ٹرین: ممبئی کی شہ رگ
صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی ممبئی جاگتی نہیں، دوڑنے لگتی ہے۔ پلیٹ فارم پر کھڑے لوگ، گھڑی پر جمی نظریں اور دور سے آتی ہوئی ٹرین کی آواز....... یہ سب مل کر ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو کسی فلمی سین سے کم نہیں۔ جیسے ہی پلیٹ فارم پر ٹرین رُکتی ہے، ایسا لگتا ہے گویا سیلاب کی وجہ سے ندی کا باندھ ٹوٹ گیا ہو. لوگ اترتے بھی ہیں اور چڑھتے بھی، ایک ہی وقت میں، ایک ہی دروازے سے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ہجوم میں بھی ایک غیر مرئی نظم قائم رہتا ہے، جیسے ہر شخص کو اپنا کردار ازبر ہو.
ممبئی لوکل میں سفر کرنا ایک آرٹ ہے۔ یہاں جگہ بنانا مہارت ہے اور جگہ بناکر کھڑے رہنا صبر کا امتحان. کوئی اخبار پڑھ رہا ہے، تو کوئی موبائل پر مصروف ہے اور کوئی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر ہوا سے لطف اندوز ہو رہا ہے. انجن کی سیٹی، پٹریوں کی کھڑکھڑاہٹ اور مسافروں کی آوازیں مل کر ایک عجیب سا سنگیت پیدا کرتی ہیں، جو صرف ممبئی کی پہچان ہے۔
اس سفر میں طبقاتی فرق مٹ جاتا ہے۔ ایک ہی ڈبے میں مزدور بھی ہوتا ہے، دفتر کا افسر بھی، طالب علم بھی اور کاروباری شخص بھی۔ سب ایک رفتار اور ایک ہی سمت میں رواں دواں۔ لوکل ٹرین ہی وہ جگہ ہے جہاں ممبئی اپنی اصل روح کے ساتھ دکھاتی ہے...... برابری، محنت اور مسلسل جدوجہد.
مگر یہ سفر اتنا آسان نہیں. گرمی، بھیڑ، تاخیر اور کبھی کبھار پیش آنے والے حادثات اس کا حصہ ہیں. اس کے باوجود ممبئی کر (ممبئی کے باشندے) ہمت نہیں ہارتے. وہ اگلے دن پھر اسی عزم کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑے ہوتے ہیں، کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کے خوابوں کے حقیقت بننے کا راستہ اسی ٹرین سے طے ہوگا.
شام کے وقت جب لوگ تھکے ہارے گھروں کو لوٹتے ہیں تو یہی لوکل ٹرین ان کے لیے ایک پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ دوستوں کے قہقہے، روزمرہ کی شکایات اور کبھی کبھار گنگناتی ہوئی آوازیں، ان کے سفر کو بوجھل ہونے نہیں دیتیں.
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ممبئی لوکل ٹرین صرف ایک سواری نہیں، بلکہ ایک مکمل داستان ہے...... ایک ایسی داستان جو ہر روز لکھی جاتی ہے، ہر مسافر کے قدموں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، اور کبھی ختم نہیں ہوتی.
#train
#localtrain
#mumbai
No comments:
Post a Comment