جدید اردو شاعری کی جمالیات
ڈاکٹر قمر صدیقی
نئے لکھنے والوں میں ڈاکٹر رشید اشرف خان استقلال اور تسلسل سے لکھ رہے
ہیں۔ ان کی دو کتابیں ’’کئی چاندتھے سرِ آسماں‘‘ ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ اور
’’ محمد حسین آزاد اور ان کا شعری سفر‘‘ اہلِ نظر سے داد و تحسین حاصل
کرچکی ہیں۔ ڈاکٹڑ رشید اشرف خان کی نئی کتاب ’’ جدید اردو شاعر کی جمالیات
‘‘ ابھی حال ہی میں براون بک پبلی کیشن کے زیرِ اہتمام شائع ہوکر منظرِ عام
پر آئی ہے۔ کتاب میں کل آٹھ مضامین ہیں اور یہ تمام مضامین منتخب شعرا کے
یہاں جمالیاتی عناصر کی تلاش و تحقیق پر مبنی ہیں لہٰذا یہ کتاب مختلف
مضامین کا مجموعہ ہونے کے باوصف موضوعاتی وحدت کا تاثر پیش کرتی ہے۔
اردو میں جمالیات کے تعلق سے کم لکھا گیا ہے۔ مجنوں گورکھپوری، قاضی جمال حسین اور شکیل الرحمن وغیرہ ایسے چند نام ہی ہیں جنھوں نے اس دشت کی سیاہی کا مزہ چکھا ہے۔ دراصل فن کی جمالیاتی تفہیم ایک مشکل کام ہے اور اس کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ متن کی جمالیاتی تفہیم اس کی تعبیر سے اکثر و بیشتر میل نہیں کھاتی، مثال کے طور پر خود ڈاکٹر رشید اشرف کی کتاب سے یہ پیراگراف ملاحظہ ہو:
’’ مجاز ؔ نے بغیر مضمون آفرینی کا مصنوعی سہارا لیے محض رومانی زبان ، ذات کے تجربات اور جذباتی لب و لہجہ استعمال کیا ہے۔ ان کے بعض اشعار بالکل نجی عشق کے آئینہ دار ہیں لیکن ان میں جو رنگِ جمال پوشیدہ ہے وہ ذاتی ہوکر بھی دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مجازؔ کی شاعری میں جمالیاتی قدریں نظریۂ اظہاریت کی بہترین مثال ہیں۔‘‘
مجازؔ کی شاعری کی سب سے بڑی خامی مضمون آفرینی کا فقدان ہے۔ اردو کی شعری روایت میں جتنے بھی بڑے اور اہم شاعر گذرے ہیں ان کے یہاں مضمون آفرینی کا جوہر پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ مجازؔ چونکہ کمزور شاعر ہیں لہٰذا رومانی زبان اور جذباتی لب و لہجے سے کام چلاتے رہے ، لیکن کب تک ؟ آخر میں ان کے بچ رہنے والے سرمایے میں کوئی ایک مکمل غزل بھی نہیں ہے۔ خیر فن پارے کے جمالیاتی تعین قدر کے پیمانے تنقید کے رائج پیمانوں سے علاحدہ ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ قاضی جمال حسین نے لکھا ہے کہ : ’’ ادبی تجزیے میں صرف و نحو کے اصولوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے جبکہ جمالیات کا زبان کی قواعد سے براہ راست کوئی علاقہ نہیں۔‘‘ (جمالیات اور اردو شاعری۔ ص: ۳۴)
کتاب کا پیش لفظ مختصر مگر جامع ہے۔ پہلا مضمون ممتاز رومانی شاعر اختر شیرانی کے فن میں جمالیاتی قدروں کا احاطہ کرتا ہے۔ مصنف نے اختر شیرانی کی مختلف نظموں کا تجزیہ کرکے ان میں جمالیاتی عناصر کی نشاندہی کی ہے۔ علاوہ ازیں اختر شیرانی کی شاعری کے مختلف ادوار کو کماحقہ‘ پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
کتاب کے دوسرے مضمون کا عنوان ہے ’’ مجاز کا تصور جمال‘‘۔ اس مضمون میں مصنف نے مجاز لکھنوی کی شاعری میں جمالیاتی پہلوؤں کو مجلا کرنے کی سعی ہے۔ اس کے علاوہ مضمون کے آغاز میں جمالیاتی فکر و فلسفہ کے تعلق سے کارآمد گفتگو بھی کی گئی ہے۔
کتاب کا تیسرا مضمون ’جذبی کی جمالیات‘ ہے۔ معین احسن جذبی ترقی پسند تحریک کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے بغیر گھن گرج کے مدھم لہجے میں اپنی بات کہی اور پر اثر و پر وقار انداز میں کہی۔ جذبی کی شاعری کی فضا ایک نوع کی محرومی اور یاسیت آمیز ہے اور اسی فضا میں انھوں نے جمالیات کا پھول کھلایا ہے۔ ڈاکٹر رشید اشرف خان نے بڑی عرق ریزی سے جذبی کے اشعار کا تجزیہ کرکے اس کے جمالیاتی پہلوؤں کو آشکارا کیا ہے۔
کتاب کا چوتھا مضمون علی سردار جعفری کی شاعری میں جمالیاتی رنگارنگی کی تحقیق و جستجو پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ شکیل بدایونی ، شہر یار، عرفان صدیقی اور شہپر رسول کی شاعری پر بھی مضامین شامل ہیں۔ ان تمام مضامین کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مضمون کے ابتدا میں شعرا کی مختصر سوانح بھی تحریر کردی گئی ہے۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر معروف نقاد پروفیسر شمیم حنفی نے تحریر کیا ہے کہ :
’’ڈاکٹر رشید اشرف خان کے یہ مضامین اپنے موضوع اور مطالب کے اعتبار سے پڑھنے والوں کی توجہ کے مستحق ہیں ۔ انھوں نے بڑی توجہ کے ساتھ کچھ شاعروں کا مطالعہ کیا ہے اور اپنی رایوں کے اظہار میں متوازن اور محتاط رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان کی کتاب کو مقبولیت ملے گی اور ادبی حلقوں میں ان کی کتاب پسند کی جائے گی۔‘‘
بلاشبہ ڈاکٹر رشید اشرف خان کی یہ کتاب اردو میں جمالیاتی مطالعات کے ضمن میں ایک اہم کوشش ہے اور
اردو میں جمالیات کے تعلق سے کم لکھا گیا ہے۔ مجنوں گورکھپوری، قاضی جمال حسین اور شکیل الرحمن وغیرہ ایسے چند نام ہی ہیں جنھوں نے اس دشت کی سیاہی کا مزہ چکھا ہے۔ دراصل فن کی جمالیاتی تفہیم ایک مشکل کام ہے اور اس کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ متن کی جمالیاتی تفہیم اس کی تعبیر سے اکثر و بیشتر میل نہیں کھاتی، مثال کے طور پر خود ڈاکٹر رشید اشرف کی کتاب سے یہ پیراگراف ملاحظہ ہو:
’’ مجاز ؔ نے بغیر مضمون آفرینی کا مصنوعی سہارا لیے محض رومانی زبان ، ذات کے تجربات اور جذباتی لب و لہجہ استعمال کیا ہے۔ ان کے بعض اشعار بالکل نجی عشق کے آئینہ دار ہیں لیکن ان میں جو رنگِ جمال پوشیدہ ہے وہ ذاتی ہوکر بھی دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مجازؔ کی شاعری میں جمالیاتی قدریں نظریۂ اظہاریت کی بہترین مثال ہیں۔‘‘
مجازؔ کی شاعری کی سب سے بڑی خامی مضمون آفرینی کا فقدان ہے۔ اردو کی شعری روایت میں جتنے بھی بڑے اور اہم شاعر گذرے ہیں ان کے یہاں مضمون آفرینی کا جوہر پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ مجازؔ چونکہ کمزور شاعر ہیں لہٰذا رومانی زبان اور جذباتی لب و لہجے سے کام چلاتے رہے ، لیکن کب تک ؟ آخر میں ان کے بچ رہنے والے سرمایے میں کوئی ایک مکمل غزل بھی نہیں ہے۔ خیر فن پارے کے جمالیاتی تعین قدر کے پیمانے تنقید کے رائج پیمانوں سے علاحدہ ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ قاضی جمال حسین نے لکھا ہے کہ : ’’ ادبی تجزیے میں صرف و نحو کے اصولوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے جبکہ جمالیات کا زبان کی قواعد سے براہ راست کوئی علاقہ نہیں۔‘‘ (جمالیات اور اردو شاعری۔ ص: ۳۴)
کتاب کا پیش لفظ مختصر مگر جامع ہے۔ پہلا مضمون ممتاز رومانی شاعر اختر شیرانی کے فن میں جمالیاتی قدروں کا احاطہ کرتا ہے۔ مصنف نے اختر شیرانی کی مختلف نظموں کا تجزیہ کرکے ان میں جمالیاتی عناصر کی نشاندہی کی ہے۔ علاوہ ازیں اختر شیرانی کی شاعری کے مختلف ادوار کو کماحقہ‘ پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
کتاب کے دوسرے مضمون کا عنوان ہے ’’ مجاز کا تصور جمال‘‘۔ اس مضمون میں مصنف نے مجاز لکھنوی کی شاعری میں جمالیاتی پہلوؤں کو مجلا کرنے کی سعی ہے۔ اس کے علاوہ مضمون کے آغاز میں جمالیاتی فکر و فلسفہ کے تعلق سے کارآمد گفتگو بھی کی گئی ہے۔
کتاب کا تیسرا مضمون ’جذبی کی جمالیات‘ ہے۔ معین احسن جذبی ترقی پسند تحریک کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے بغیر گھن گرج کے مدھم لہجے میں اپنی بات کہی اور پر اثر و پر وقار انداز میں کہی۔ جذبی کی شاعری کی فضا ایک نوع کی محرومی اور یاسیت آمیز ہے اور اسی فضا میں انھوں نے جمالیات کا پھول کھلایا ہے۔ ڈاکٹر رشید اشرف خان نے بڑی عرق ریزی سے جذبی کے اشعار کا تجزیہ کرکے اس کے جمالیاتی پہلوؤں کو آشکارا کیا ہے۔
کتاب کا چوتھا مضمون علی سردار جعفری کی شاعری میں جمالیاتی رنگارنگی کی تحقیق و جستجو پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ شکیل بدایونی ، شہر یار، عرفان صدیقی اور شہپر رسول کی شاعری پر بھی مضامین شامل ہیں۔ ان تمام مضامین کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مضمون کے ابتدا میں شعرا کی مختصر سوانح بھی تحریر کردی گئی ہے۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر معروف نقاد پروفیسر شمیم حنفی نے تحریر کیا ہے کہ :
’’ڈاکٹر رشید اشرف خان کے یہ مضامین اپنے موضوع اور مطالب کے اعتبار سے پڑھنے والوں کی توجہ کے مستحق ہیں ۔ انھوں نے بڑی توجہ کے ساتھ کچھ شاعروں کا مطالعہ کیا ہے اور اپنی رایوں کے اظہار میں متوازن اور محتاط رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان کی کتاب کو مقبولیت ملے گی اور ادبی حلقوں میں ان کی کتاب پسند کی جائے گی۔‘‘
بلاشبہ ڈاکٹر رشید اشرف خان کی یہ کتاب اردو میں جمالیاتی مطالعات کے ضمن میں ایک اہم کوشش ہے اور
اس کی پذیرائی کی جانی چاہیے۔
***
***
مصنف سے رابطہ کا نمبر ہے 00918828282874

ڈاکٹر قمر صدیقی صاحب بے لاگ تبصرہ ہے اور تبصرے کے اصول پر قائم ہے
ReplyDeleteبہت شکریہ ڈاکٹر وسیم افتخار صاحب
DeleteVery thankful Dr. Zakir Khan
ReplyDeleteNice
ReplyDelete