تحریک آزادی اور اردو
قمر صدیقی
۷۵۸۱ءکی تحریک آزادی میں مراسلات، مکتوبات اور اعلانات کی اہمیت
۷۵۸۱ءکی بغاوت اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ اور یک بیک اٹھنے والا طوفان نہ تھی بلکہ یہ بغاوت انگریزوں کے جبر و استبداد کے خلاف اردو شعرا و ادبا کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھی ۔ اور یہ بغاوت کوئی جنگ ملغوبہ بھی نہ تھی بلکہ بہت حد تک منظم طریقے سے لڑی گئی تھی۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہندوستانیوں کو اس بغاوت میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس ناکامی کے اسباب و علل کیا تھے یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس میں کلام نہیں کہ آزادی کی یہ لڑائی باقاعدہ اور منظم طریقے سے لڑی گئی۔ لڑائی کے منظم ہونے کے ثبوت وہ فرامین ، دستاویزات اور اس وقت کے اخبارات میں شائع ہونے والے وہ اعلانات ہیں جو اس بغاوت سے متعلق تھے۔ ان فرامین و اعلانات میں جو زمانے کی دستبرد سے بچے رہ گئے وہ انڈین نیشنل آرکائیوز ، دہلی میں محفوظ ہیں ۔ ان فرامین میں بہادر شاہ ظفر کے وہ احکام بھی ہیں جو انھوں نے جنگِ آزادی کے ایام میں درخواستوں اور مراسلوں کی صورت میں تحریر کئے تھے اور جن کو بہادر شاہ ظفر کے مقدمہ میں بطور ثبوت ان کے خلاف پیش کیا تھا۔ یہ فرامین بیشتر اردو میں تھے۔انھیں فرامین میں والئی اودھ کا ایک فرمان اردو اور دیوناگری رسم الخط میں بھی ہے۔ اس فرمان میں عوام کو انگریزوں کے خلاف مختلف پہلوﺅں سے غلامی کا احساس دلاکر بغاوت پر ابھارا گیا تھا۔ اس طرح کے کئی احکام اردو میں سپہ سالاروں اور فوج کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اپنے ماتحتوں کو بھیجے گئے تھے۔مثلاً انڈین نیشنل آرکائیوز ، نئی دہلی میں محفوظ ایک فرمان جس پر دو مہریں ، ایک مہر کچہری اول بادشاہی اور دوسری مہر سپہ سالار بہادر کی ہے اور اس پر سنہ ۳۷۲۱ھ درج ہے ۔ یہ فرمان افسران پلٹن و رسالہ و توپخانہ وغیرہ کے نام تھا۔ اس کا متن کچھ اس طرح ہے:
” تم کو لکھا جاتا ہے کہ اس وقت حکم حضور پر نور کا آیا کہ جو پلٹن اور رسالہ و توپخانہ مورچہ کو سرکریںگے اوس پلٹن اور رسالہ کو تنخواہ کے سوائے انعام بہادری کا ملے گا۔ اب سب سرداران اور سپاہیان کو چاہئے کہ تم سب لوگ دل و جان پیش کرکے اس مورچہ کو فتح کرو اور حضور پر نور سے انعام بہادری کا پاﺅ ۔ اس میں دیری نہ ہو ، تاکید جانو مکرر یہ کہ جو شخص کہ لڑائی میں جوجہ جاوے گا (شہید ہوگا) اس کے وارثانِ حقیقی کی بخوبی پرورش ہوگی۔“
اسی طرح کے ایک دوسرے فرمان میں افسران و پلٹن و رسالہ کے نام حکم صادر ہوا کہ:
”دیکھتے ہی اس حکم نامے کے سب تیار کرکے اور کشمیری دروازہ کے حاضر ہوکر مالفانِ ناہنجار و کفرانِ بد افعال پے دھاوا کرو۔“
اس طرح کے حکم نامے اور فرامین کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی میں وہ مکتوبات بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں جن کے ذریعے والیانِ ریاست نے باہم جنگِ آزادی کے سلسلے میں پیغام رسانی کی تھی۔ حالانکہ اس قسم کے مکتوبات محفوظ نہ رہ سکے تاہم نانا صاحب فرنویس کا ایک خط دستیاب ہے ۔یہ خط اردو میں ہے اور اس میں ان کے جنگِ آزادی کے عزم کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
”جان یک روز کبھی جائے گی پر اس طرح عزت کھوکر کیوں مرنا اور ہم سے لڑائی و جنگ جب تک رہے گا ، ہم چاہے مارے جائیں ، چاہے قید ہوں ، چاہے یہاں سے جو لکھا ہوگا سو ہوگا اور ہم سے جو کچھ ہوگا سو تلوار سے ہوگا۔“
اس کے علاوہ جنگِ آزادی میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کا ایک موثر ذریعہ جہاد کا فتویٰ بھی تھا۔ بخت خاں نے اپنے اختیارات اور اثر و رسوخ کے ذریعہ اس وقت کے علما ءسے ایک جہاد کا مرتب کروایا ۔فتویٰ کے اجراکے بعد مسلمانوں میں جنگ آزادی کے لیے مذہبی جوش اور ولولہ پیدا ہونا فطری امر تھا۔ فتویٰ اردو میں مرتب ہوا تھا اور ”اخبار الظفر“ ، دہلی میں شائع ہوا تھا۔ پھر اس کی نقل انہی دنوں ”صادق الاخبار“ ، دہلی ، مورخہ ۶۲ جولائی ۷۵۸۱ءمیں چھپی تھی۔ اس کے علاوہ دو اشتہار حیدر آباد دکن کے انقلابیوں نے بھی مشتہر کئے تھے۔ ایک میں مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کی ترغیب دی گئی تھی اور دوسرے میں امراءکو مخاطب کیا گیا تھا۔
پہلی جنگِ آزادی کی باضابطہ ابتدا ۱۱ مئی ۷۵۸۱ءسے ہوئی لیکن اردو اخبارات میں اس ہلچل اور ہنگامے کے اظہار کا سلسلہ پہلے ہی سے جاری تھا اور یہی ہلچل اس پہلی جنگ آزادی کے عزم و حوصلہ کا موجب بنی۔ اس کا اعتراف خود انگریز حکومت کے سرکردہ عہدہ داروں نے کیا ہے۔ اس وقت کے گورنرجنرل لارڈ کیننگ نے اردو اخبارات کے تعلق سے کہا تھا کہ :
”اردو اخباروں نے خبریں شائع کرنے کی آڑ میں ہندوستانی باشندوں کے دلوں میں دلیرانہ حد تک بغاوت کے جذبات پیدا کئے۔ یہ کام بڑی مستعدی ، چالاکی اور عیاری سے انجام دیاگیا۔“
اسی طرح گارساں دتاسی نے بھی ۷۵۸۱ءکی بغاوت کے لیے اردو اخبارات کو ہی ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس میں حقیقت بھی ہے مثلاً اس وقت قلعہ معلی سے نکلنے والا ”سلطان الاخبار“ اپنی ۲۱ اپریل ۷۵۸۱ءکی اشاعت میں تحریر کرتا ہے کہ:
”ان دنوں جتنے راجہ ہیں ، سب نے بالاتفاق چٹھی اس مضمون کو تحریر کی ہے۔ جرا ¿ت کی تقریر کی ہے کہ جو سرکار خلافتِ عہد و مواثیق ، روسائے ہندوستان کی ریاست بجز لیتی ہے (اس سے) ایک تو خلقت بیکاری سے مرتی ہے، دوسرے بسی بسائی بستیاں سرکار ویران کئے دیتی ہےں۔ اس باعث ہم لوگوں نے باہم ہر ایک کو فساد پر آمادہ کیا ہے۔ ہمارا ملک اگر لیں گے، جان دینے کا ارادہ کیا ہے۔ خلافِ عہد و پیمان اگرریاست لینے لینے پر سرکار کو اصرار ہے تو یہاں بھی سرِ میدان ہر ایک جان دینے کو تیار ہے۔“
جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا اردو اخبارات نے آنے والے انقلاب کے لیے زمین ہموار کی تھی لہٰذا ان اخبارات کی خبروں کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو خبروں کی آڑ میں ہندوستانی باشندوں کے دلوں میں دلیرانہ حد تک بغاوت کے جذبات پیدا کرنے کا عنصر کارفرمانظر آتا ہے۔ اس اعتبار سے ”صادق الاخبار“ زیادہ اہم ہے۔ اس اخبار کو دہلی سے مولوی سیّد جمیل الدین خاں نکالتے تھے۔ یہ نہ صرف دہلی کا سب سے بڑا اخبار تھا بلکہ دہلی سے باہر بھی بھیجا جاتا تھا۔ جمیل الدین خاں کو اخبار نکالنے کے لیے فرمان بہادر شاہ ظفر نے جاری کیا تھا۔ بلکہ اس زمانے میں دہلی سے جتنے بھی اخبارات شائع ہوتے تھے سبھی کو فرمان و اجازت بہادر شاہ ظفر ہی جاری کرتے تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے جنگِ آزادی کے خفیہ اخبارات کی بھی سرپرستی فرمائی۔ انھیں کی سرپرستی میں ”سراج الاخبار “ بھی شائع ہوتا تھا، جو دربار معلی کا روزنامچہ ہوتا تھا۔
جنگِ آزادی کے آغاز کی سن گن بھی ان اخباروں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔ اپریل مئی کے کئی شماروں میں اس نوعیت کی خبریں مل جاتی ہیں۔ مثلاً ”صادق الاخبار“ اپنی ۰۲ اپریل ۷۵۸۱ءکی اشاعت میں لکھتا ہے:
” میرٹھ: وہاں سے ایک خط مورخہ آٹھ ماہِ حال سے معلوم ہوا کہ ان دنوں وہاں کوئی رات آگ لگنے سے خالی نہیں گزرتی۔ ایک بنگلہ کوارٹر ماسٹڑ ،سرجنٹ رجمنٹ تین سواروں کا اور ایک خالی بنگلہ جل گیا۔ ۶ تاریخ بارک ماسٹر صاحب کا گودام جلادیا گیا۔ من جملہ معاملہ کارتوس نے سپاہ کے دلوں ایک آگ بھڑکادی ہے۔“
ایسے واقعات دنیا پور، بارک پور، لکھنو ¿ ، میرٹھ وغیرہ میں بھی رونما ہوئے تھے اور سپاہیوں نے اپنے باغیانہ جذبات کا ظہار مختلف انداز سے کیا ۔ ان کی روداد اِن اخبارات میں موجود ہے۔ ”دہلی اردو اخبار“ مورخہ ۷۱ مئی ۷۵۸۱ءکے شمارہ میں انبالہ ، میرٹھ، سہارنپور، روڑکی میں رونما ہونے والے حالات درج ہیں۔ اس کے بعد ۴۲ مئی شمارہ سے دہلی کے تفصیلی اور دیگر شہروں کے اجمالی حالات کا علم ہوتا ہے۔
ہندوستان پر انگریزی اقتدار کیوں قائم ہوا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کارل مارکس نے ۲۲ جولای ۳۵۸۱ءکے ”نیویارک ٹرائی بون“ کو ایک مراسلہ میں لکھا:
”مغلوں کی عظیم الشان طاقت کو مغل صوبے داروں نے پاش پاش کیا۔ صوبے داروں کی قوت کو مرہٹوں نے ٹھکانے لگایااور مرہٹوں کا افغانوں نے خاتمہ کیا اور عین اس وقت جب یہ طاقتیں ایک دوسرے کو زک دینے کے لیے آپس میں دست و گریباں ہورہی تھیں، تو برطانوی باشندوں نے جھپٹ کر سب کو اپنا مطیع بنالیا۔“
گویا کارل مارکس کا یہ تجزیہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہندوستان میں انگریزی تسلط ہندوستانیوں میں باہی اتحاد و اتفاق کی کمی کا نتیجہ تھا۔ لیکن ۷۵۸۱ءکی لڑائی پورے ملک نے مل کر لڑی تھی ۔ قوم میں اس اتحاد و یکجہتی کو پیدا کرنے اور فروغ دینے میں اردو زبان و ادب نے بنیادی کردار ادا کیا تھااور تحریک آزادی کا شاید ایسا کوئی گوشہ نہیں جسے اردو زبان و ادب نے منور و مجلیٰ نہ کر رکھا ہو۔
” تم کو لکھا جاتا ہے کہ اس وقت حکم حضور پر نور کا آیا کہ جو پلٹن اور رسالہ و توپخانہ مورچہ کو سرکریںگے اوس پلٹن اور رسالہ کو تنخواہ کے سوائے انعام بہادری کا ملے گا۔ اب سب سرداران اور سپاہیان کو چاہئے کہ تم سب لوگ دل و جان پیش کرکے اس مورچہ کو فتح کرو اور حضور پر نور سے انعام بہادری کا پاﺅ ۔ اس میں دیری نہ ہو ، تاکید جانو مکرر یہ کہ جو شخص کہ لڑائی میں جوجہ جاوے گا (شہید ہوگا) اس کے وارثانِ حقیقی کی بخوبی پرورش ہوگی۔“
اسی طرح کے ایک دوسرے فرمان میں افسران و پلٹن و رسالہ کے نام حکم صادر ہوا کہ:
”دیکھتے ہی اس حکم نامے کے سب تیار کرکے اور کشمیری دروازہ کے حاضر ہوکر مالفانِ ناہنجار و کفرانِ بد افعال پے دھاوا کرو۔“
اس طرح کے حکم نامے اور فرامین کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی میں وہ مکتوبات بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں جن کے ذریعے والیانِ ریاست نے باہم جنگِ آزادی کے سلسلے میں پیغام رسانی کی تھی۔ حالانکہ اس قسم کے مکتوبات محفوظ نہ رہ سکے تاہم نانا صاحب فرنویس کا ایک خط دستیاب ہے ۔یہ خط اردو میں ہے اور اس میں ان کے جنگِ آزادی کے عزم کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
”جان یک روز کبھی جائے گی پر اس طرح عزت کھوکر کیوں مرنا اور ہم سے لڑائی و جنگ جب تک رہے گا ، ہم چاہے مارے جائیں ، چاہے قید ہوں ، چاہے یہاں سے جو لکھا ہوگا سو ہوگا اور ہم سے جو کچھ ہوگا سو تلوار سے ہوگا۔“
اس کے علاوہ جنگِ آزادی میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کا ایک موثر ذریعہ جہاد کا فتویٰ بھی تھا۔ بخت خاں نے اپنے اختیارات اور اثر و رسوخ کے ذریعہ اس وقت کے علما ءسے ایک جہاد کا مرتب کروایا ۔فتویٰ کے اجراکے بعد مسلمانوں میں جنگ آزادی کے لیے مذہبی جوش اور ولولہ پیدا ہونا فطری امر تھا۔ فتویٰ اردو میں مرتب ہوا تھا اور ”اخبار الظفر“ ، دہلی میں شائع ہوا تھا۔ پھر اس کی نقل انہی دنوں ”صادق الاخبار“ ، دہلی ، مورخہ ۶۲ جولائی ۷۵۸۱ءمیں چھپی تھی۔ اس کے علاوہ دو اشتہار حیدر آباد دکن کے انقلابیوں نے بھی مشتہر کئے تھے۔ ایک میں مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کی ترغیب دی گئی تھی اور دوسرے میں امراءکو مخاطب کیا گیا تھا۔
پہلی جنگِ آزادی کی باضابطہ ابتدا ۱۱ مئی ۷۵۸۱ءسے ہوئی لیکن اردو اخبارات میں اس ہلچل اور ہنگامے کے اظہار کا سلسلہ پہلے ہی سے جاری تھا اور یہی ہلچل اس پہلی جنگ آزادی کے عزم و حوصلہ کا موجب بنی۔ اس کا اعتراف خود انگریز حکومت کے سرکردہ عہدہ داروں نے کیا ہے۔ اس وقت کے گورنرجنرل لارڈ کیننگ نے اردو اخبارات کے تعلق سے کہا تھا کہ :
”اردو اخباروں نے خبریں شائع کرنے کی آڑ میں ہندوستانی باشندوں کے دلوں میں دلیرانہ حد تک بغاوت کے جذبات پیدا کئے۔ یہ کام بڑی مستعدی ، چالاکی اور عیاری سے انجام دیاگیا۔“
اسی طرح گارساں دتاسی نے بھی ۷۵۸۱ءکی بغاوت کے لیے اردو اخبارات کو ہی ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس میں حقیقت بھی ہے مثلاً اس وقت قلعہ معلی سے نکلنے والا ”سلطان الاخبار“ اپنی ۲۱ اپریل ۷۵۸۱ءکی اشاعت میں تحریر کرتا ہے کہ:
”ان دنوں جتنے راجہ ہیں ، سب نے بالاتفاق چٹھی اس مضمون کو تحریر کی ہے۔ جرا ¿ت کی تقریر کی ہے کہ جو سرکار خلافتِ عہد و مواثیق ، روسائے ہندوستان کی ریاست بجز لیتی ہے (اس سے) ایک تو خلقت بیکاری سے مرتی ہے، دوسرے بسی بسائی بستیاں سرکار ویران کئے دیتی ہےں۔ اس باعث ہم لوگوں نے باہم ہر ایک کو فساد پر آمادہ کیا ہے۔ ہمارا ملک اگر لیں گے، جان دینے کا ارادہ کیا ہے۔ خلافِ عہد و پیمان اگرریاست لینے لینے پر سرکار کو اصرار ہے تو یہاں بھی سرِ میدان ہر ایک جان دینے کو تیار ہے۔“
جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا اردو اخبارات نے آنے والے انقلاب کے لیے زمین ہموار کی تھی لہٰذا ان اخبارات کی خبروں کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو خبروں کی آڑ میں ہندوستانی باشندوں کے دلوں میں دلیرانہ حد تک بغاوت کے جذبات پیدا کرنے کا عنصر کارفرمانظر آتا ہے۔ اس اعتبار سے ”صادق الاخبار“ زیادہ اہم ہے۔ اس اخبار کو دہلی سے مولوی سیّد جمیل الدین خاں نکالتے تھے۔ یہ نہ صرف دہلی کا سب سے بڑا اخبار تھا بلکہ دہلی سے باہر بھی بھیجا جاتا تھا۔ جمیل الدین خاں کو اخبار نکالنے کے لیے فرمان بہادر شاہ ظفر نے جاری کیا تھا۔ بلکہ اس زمانے میں دہلی سے جتنے بھی اخبارات شائع ہوتے تھے سبھی کو فرمان و اجازت بہادر شاہ ظفر ہی جاری کرتے تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے جنگِ آزادی کے خفیہ اخبارات کی بھی سرپرستی فرمائی۔ انھیں کی سرپرستی میں ”سراج الاخبار “ بھی شائع ہوتا تھا، جو دربار معلی کا روزنامچہ ہوتا تھا۔
جنگِ آزادی کے آغاز کی سن گن بھی ان اخباروں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔ اپریل مئی کے کئی شماروں میں اس نوعیت کی خبریں مل جاتی ہیں۔ مثلاً ”صادق الاخبار“ اپنی ۰۲ اپریل ۷۵۸۱ءکی اشاعت میں لکھتا ہے:
” میرٹھ: وہاں سے ایک خط مورخہ آٹھ ماہِ حال سے معلوم ہوا کہ ان دنوں وہاں کوئی رات آگ لگنے سے خالی نہیں گزرتی۔ ایک بنگلہ کوارٹر ماسٹڑ ،سرجنٹ رجمنٹ تین سواروں کا اور ایک خالی بنگلہ جل گیا۔ ۶ تاریخ بارک ماسٹر صاحب کا گودام جلادیا گیا۔ من جملہ معاملہ کارتوس نے سپاہ کے دلوں ایک آگ بھڑکادی ہے۔“
ایسے واقعات دنیا پور، بارک پور، لکھنو ¿ ، میرٹھ وغیرہ میں بھی رونما ہوئے تھے اور سپاہیوں نے اپنے باغیانہ جذبات کا ظہار مختلف انداز سے کیا ۔ ان کی روداد اِن اخبارات میں موجود ہے۔ ”دہلی اردو اخبار“ مورخہ ۷۱ مئی ۷۵۸۱ءکے شمارہ میں انبالہ ، میرٹھ، سہارنپور، روڑکی میں رونما ہونے والے حالات درج ہیں۔ اس کے بعد ۴۲ مئی شمارہ سے دہلی کے تفصیلی اور دیگر شہروں کے اجمالی حالات کا علم ہوتا ہے۔
ہندوستان پر انگریزی اقتدار کیوں قائم ہوا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کارل مارکس نے ۲۲ جولای ۳۵۸۱ءکے ”نیویارک ٹرائی بون“ کو ایک مراسلہ میں لکھا:
”مغلوں کی عظیم الشان طاقت کو مغل صوبے داروں نے پاش پاش کیا۔ صوبے داروں کی قوت کو مرہٹوں نے ٹھکانے لگایااور مرہٹوں کا افغانوں نے خاتمہ کیا اور عین اس وقت جب یہ طاقتیں ایک دوسرے کو زک دینے کے لیے آپس میں دست و گریباں ہورہی تھیں، تو برطانوی باشندوں نے جھپٹ کر سب کو اپنا مطیع بنالیا۔“
گویا کارل مارکس کا یہ تجزیہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہندوستان میں انگریزی تسلط ہندوستانیوں میں باہی اتحاد و اتفاق کی کمی کا نتیجہ تھا۔ لیکن ۷۵۸۱ءکی لڑائی پورے ملک نے مل کر لڑی تھی ۔ قوم میں اس اتحاد و یکجہتی کو پیدا کرنے اور فروغ دینے میں اردو زبان و ادب نے بنیادی کردار ادا کیا تھااور تحریک آزادی کا شاید ایسا کوئی گوشہ نہیں جسے اردو زبان و ادب نے منور و مجلیٰ نہ کر رکھا ہو۔
No comments:
Post a Comment